All Golpo Are Fake And Dream Of Writer, Do Not Try It In Your Life

میری آنکھوں کے سامنے میری بیوی کا ریپ

Story Title*: میری آنکھوں کے سامنے میری بیوی کا
ریپ

Your Name*: پپو

Your Email Address*: vagina_hole50@yahoo.com

Your Story*: یہ کہانی نہیں بلکہ جو میرے ساتھ ہوا
اسے شارٹ کر کے لکھ رہا ہوں۔

ہماری نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ ہم ہنی مون سے
واپس آرہے تھے کہ ایک سنسان لنک روڈ پر
ہماری کار اچانک بند ہو گئی۔ میں نے کافی
کوشش کی مگر سلف سٹارٹ نہ ہو سکی۔ میں نے
بیگم سے کہا: تم اندر ہی بیٹھو، میں فرنٹ
کھول کر دیکھتا ہوں۔ یہ کہہ کر میں نے گاڑی
کا دروازہ کھولا اور فرنٹ کھول کر تار اور
بیٹری چیک کر نے لگا۔ کافی کوشش کے باوجود
کار سٹارٹ نہیں ہو رہی تھی۔ اتنے میں بیگم
بھی گاڑی سے باہر آگئی۔ بیگم بولی: کیا ہوا؟
کیا گاڑی زیادہ خراب ہو گئی ہے؟ میں نے کہا:
لگتا ہے گاڑی زیادہ ہی خراب ہو گئی ہے۔

سور ج تیزی سے غروب ہوتا جا رہا تھا۔ اور دن
کی روشنی بھی تیزی سے مدھم پڑ رہی تھی۔ میر
پوی کوشش تھی کہ گاڑی سٹارٹ ہو جائے۔ کیوں
کہ وہ مین روڈ نہیں تھا بلکہ ایک چھوٹا سا
لنک روڈ تھا، جو کہ ہمارے گھر کی طرف شارٹ کٹ
تھا۔ ہمیں کیوں کہ دیر ہو چکی تھی میں نے
سوچا کہ اس لنک روڈ سے جلد گھر پہنچ جائیں
گے۔ لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ گاڑی اس طرح
اچانک خراب ہو جائے گی۔

جب کافی کوشش کے باوجود گاڑی سٹارٹ نہیں ہو
رہی تھی تو بیگم کے چہرے پر پریشانی اور ڈر
کے آثار نمایاں نظر آنے لگے تھے۔ کیوں کہ اس
روڈ پر آئے دن ڈاکو ئوں کی وارداتیں معمول
کا حصہ تھیں۔

بیگم نے کہا؛ آپ گھر فون کیجئے، تاکہ مکینک
بھیج دیں اور ساتھ ہی دوسری گاڑی لے آئیں۔
میں فوراً اپنا موبائیل نکالا لیکن سگنل
بہت کم تھے۔ میں نے بات تو پھر بھی ہو جائے
گی۔ چاہے کٹ کٹ کر ہو۔ لیکن میں نے جیسے ہی
موبائیل نمبر ملا کر اپنے کان پر رکھا مجھے
پیچھے سے ایک بھاری آواز سنائی دی۔ "موبائیل
مجھے دے دو" میں آواز سن کر کانپ گیا۔ دیکھا
تو ایک بڑی مونچھوں والا لمبا چوڑ آدمی کھڑا
تھا۔ پہلے تو میں چونک گیا۔ پھر میں نے ہمت
کر کے پوچھا کہ تم کون ہو؟ یہ کہنا ہی تھا کہ
جھاڑیوں اور درختوں کے پیچھے سے تین آدمی
اور نکل آئے۔ جن میں سے دو کے ہاتھوں میں
پسٹل اور ایک کے ہاتھ میں لمبی گن تھی۔
انہوں نے تیزی کے ساتھ مجھے پکڑ کر قابو کر
لیا یہ کہتے ہوئے کہ ہم اچھی طرح بتاتے ہیں
کہ ہم کون ہیں۔ ''باندھ دو سالے کو" میں نے
چھڑوانے کی کوشش کی لیکن ان کے آگے میرا بس
نہ چلا۔ انہوں نے میرے منہ پر ٹیپ لگا کر
درخت کے ساتھ کس کر باندھ دیا۔ مجھے درخت پر
کس کر باندھنے کے بعد ان میں سے ایک نے کہا:
''استاد، مال ٹائیٹ ہے" یہ کہتے ہی انہوں نے
میری بیگم کو چاروں طرف سے جکڑ لیا اور پکڑ
لیا۔ جب وہ چلائی تو انہوں نے اس کے منہ پر
ٹیپ لگا دی۔ میری بیگم کے منہ سے اوں اوں کی
آواز نکل رہی تھی اور وہ ہاتھ جوڑ کر رحم کی
اپیل کر رہی تھی۔ان میں سے ایک نے میر بیگم
کے دونوں ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیے۔ جب کہ
دوسرے نے اس کی ٹانگوں کو قابو کر لیا۔ اور
ان کے سردار نے میری بیوی کی گانڈ کے نیچے
دونوں ہاتھوں سے سہارا دے دیا۔ سردار نے
ہاتھ دباکر کہا: ''گانڈ تو بہت ہی نرم ہے"
میرا غصے سے برا حال ہو رہا تھا۔ میں خود کو
آزاد کرانے کی پوری کوشش کر رہا تھا جس سے
درخت خوب ہل رہا تھا۔لیکن میں ناکام ہو کر
اپنی بیوی کا تماشہ دیکھ رہا تھا۔
سردار نے میری بیوی سے کہا: دیکھو اگر تم نے
زیادہ مزاحمت کی تو ہم تمھارے کپڑ ے پھاڑ
دیں گے اور تمھیں واپس ننگا ہو کر جانا پڑ ے
گا۔ اس لیے جیسا ہم کہتے ہیں ویسا ہی کرو۔
لیکن میر ی بیوی نے چھڑوانے کی کوشش جاری
رکھی۔ جیسے ہی
میر ی بیگم نے چھڑ وانے کے لیے اوپر جھٹکا
لگایا ۔ میر ی بیوی کی ایک ٹانگ اس ڈاکو کے
ہاتھ سے نکل گئی۔ لیکن شلوار کا پہنچا اس کے
ہاتھ میں ہی رہا۔جس سے میری بیوی کے ایک
چوتڑ سے شلوار پھسل گئی۔ کیوں کہ میر ی بیوی
زیادہ تر الاسٹک پہنتی تھی۔ ناڑا استعما ل
نہیں کر تی تھی۔
سردار نے کہا: یہ تو خود ہی کام آسان ہو گیا۔
اسے نے کہا کہ اسے کار کی ڈگی پر الٹا کر کے
لٹا دو۔ انہوں نے میر ی بیگم کو الٹا کر کے
لٹا دیا۔ اور سردار نے میر ی بیگم کی گانڈ سے
قمیض کا کپڑا اوپر کیا۔ اور پھر الاسٹک نیچے
کر دی جس سے بیگم کی گانڈ بالکل ننگی ہو گئی۔
ان میں سے ایک نے کہا: ٹارچ کی لائٹ مارو،
سالی کی گانڈ کا اچھی طرح نظارہ تو کریں"
سردار کے اشارے پر ایک ڈا کو نے میر ی بیگم
کی گانڈ سے جس سے الاسٹک والی شلوار اتری
ہوئی تھی ۔جیسے ہی ٹارچ روشن کی سب ڈاکو
میری بیگم کو گانڈ دیکھ کر جیسے پاگل ہی ہو
گئے ہوں۔کوئی کہنے لگا کیا ہی گوری اور نرم
گانڈ ہے تو کوئی کہنے لگا ، میں تو اس کی
موٹی گانڈ کے مزے لوں گا۔ ہر ڈاکو اپنے اپنے
الفاظ میں میری بیگم کی گانڈ کی تعریف کر
رہا تھا۔ سب سے پہلے سردار نے میری بیگم کی
گانڈ کو گہرہ چما دیا۔ اور پھر سب شروع ہو
گئے۔کوئ چوم رہا تھا تو کوئی دونوں چوتڑوں
پر اپنی زبان پھیر رہا تھا۔ ان سب کے
شلواروں کے پیشاب والی جگہ ابھری ہوئی تھی۔
اب میر ی بیگم بھی بے بس ہو چکی تھی، اسے پتا
چل گیا تھا کہ میں اب خود کو نہیں بچا سکتی۔
سردار نے کہا : تم اس کے گانڈ کے دونوں چوتڑ
پھیلا دو۔ سے نے بیگم کے چوتڑ کھول دیے۔ اور
ساتھ کھڑے ڈاکو نے گانڈ کے سوراخ پر روشنی
ڈالی۔
سردار نے بیگم کی گانڈ کا سوراخ کئ بار
چوما۔ اور پھر گانڈ کے سوراخ پر اپنی زبان
پھیرنے لگ گیا۔ سردار میری بیوی کی گانڈ کا
سوراخ اس طرح چاٹ رہا تھا کہ چاٹتے ہوئے
اندر کی طرف کھینچ رہا تھا۔ بیگم بے بس ہو
چکی تھی اور اس کی آنکھیں بند تھیں۔ بیگم
کمزور سی کوشش کر رہی تھی۔ شاید اب اس میں
اور مزاحمت کی ہمت نہ رہی تھی۔ بیگم کی گوری
اور بڑی گانڈ روشنی میں خوب چمک رہی تھی۔
ارد گرد گھنا جنگل تھا۔ اور روڈ سنسان تھا۔
ٹوٹے پھوٹے روڈ کی سنگینی اور خطرناکی کا
اندازہ اس بات سے ہو رہا تھا کہ اس دوران
کوئی بھی گاڑی وہاں سے نہ گذری۔ بیگم کے منہ
سے ہلکی ہلکی اوں اوں کی آواز کیڑوں کے
رینگنے کی آوازوں کے ساتھ مل کر عجیب سماں
پیدا کر رہی تھی۔ جب کہ سردار نے بیگم کی
پوری گانڈ اور دونوں چوتڑ چاٹ چاٹ کر لال
اور گیلے کر دیے تھے۔ مجھے لگ رہا تھا کہ یہ
لوگ ڈاکو نہیں ہیں بلکہ کوئی ریپ گینگ ہے۔
کیوں کہ ان کے پاس سب جدید چیزیں موجود
تھیں۔ ان کے پاس ایک بیگ بھی تھا۔ اور سب
ہلکے ہلکے نشے میں لگ رہے تھے۔ اس بات کا
اندازہ یوں ہوا کہ انہوں نے بیگم کے کانوں
کی رنگس اور سونے کے لاکٹ تک نہیں اتارے
تھے۔ اور نہ ہی میری جیب سے پرس چھینا تھا
اور موبائیل آف کی حالت میں بے دھیانی کے
ساتھ زمین پر گرا پڑا تھا۔ بس نمودار ہوتے
ہی سیکس کی ہوس مٹانے لگ گئے۔ کافی دیر تک
سردار نے میر ی بیگم کی گانڈ کو چاٹا اور جی
بھر کے چوما۔ اس کا ایک ہاتھ شلوار کے اوپر
سے بار بار اپنے لنڈ کو پکڑ رہا تھا۔پھر
سردا ر پیچھے ہٹا اور کہا اس کی باقی شلوار
بھی کھینچ کر اتار دو۔ ساتھ کھڑے ڈاکو نے
بیگم کی باقی شلوار بھی نیچے کھینچ کر اتار
دی۔ جس سے بیگم کا نیچے والا پوار حصہ ننگا
ہو گیا۔ اور بیگم آدھے لباس میں رہ گئی۔
یعنی اب بیگم کے جسم پر صرف قمیض اور برا
باقی تھے۔ جیسے ہی بیگم کی سارے شلوار اتری
اور نیچے والا پورا حصہ ننگا ہوا ، ایک بار
پھر سب ڈاکو بیگم کو پائوں سے گانڈ تک بالکل
ننگا دیکھ کر ٹوٹ پڑے۔کوئی گانڈ سے پائوں تک
ہاتھ پھیرنے لگ گیا تو کوئی اوپر سے نیچے تک
کسنگ کرنے لگ گیا۔ سردار نے کہا اس کے منہ پر
اب ٹیپ اتار دو۔ ان میں سے ایک نے جونہی بیگم
کے منہ سے ٹیب اتاری ۔ اس سے پہلے کہ میری
بیگم چلاتی اس نے اپنے ہونٹ بیگم کے ہونٹوں
سے ملا کر بیگم کی آواز بند کردی۔ اور نازک
نازک ہونٹوں کا رس چوسنے لگ گیا۔ اب منظر یہ
تھا کہ سردار بیگم کی گانڈ کے سوراخ میں
انگلی ڈال اور نکال رہا تھا تو کبھی سوراخ
چاٹ اور چوتڑ چوم رہا تھا۔ جب کہ مولو نامی
ڈاکو میری بیگم کے دونوں پائوں کی انگلیاں
منہ میں لے کر باری باری چوس رہا تھا۔ اور
ساتھ ساتھ بیگم کے پیروں کو ملا کر شلوار کے
اوپر سے ہی اپنے لنڈ پر رگڑ رہا تھا۔ جب کہ
ایک ڈاکو مسلسل بیگم کے چوتڑوں اور ٹانگوں
کے جوڑ پر ہاتھ گھمائے اور کس کیے جا رہا
تھا۔ میں دیکھ رہا تھا کہ اب بیگم کو بھی
سیکسی جھٹکے لگنا شروع ہو گئے تھے۔ شاید اب
اسے بھی مزہ آنے لگا تھا۔ سردار نے کہا :
کاچھی تم ذرا اسے نیچے کھینچو اب میں سالی
کے پھر سے ہونٹ چوس لوں ، بڑا مزہ ہے اس کے
ہونٹوں میں تو۔ کاچھی جو اس وقت بیگم کے
ہونٹ چوس رہا تھا اس نے بیگم کے ہونٹ چھوڑ
دیے اور سردار نے اس کی جگہ لے لی۔ جب بیگم
کو انہوں نے تھوڑا نیچے سر کا دیا تو اس کے
پائوں زمین پر لگ گئے اور پیٹ بند ڈگی پر
رہا۔یعنی انہوں نے بیگم کو ڈوگی پوز میں کر
دیا۔ سب سے پہلے سردار نے اپنی قمیض اتاری
اور ساتھ ہی باقی تینوں نے بھی اپنی اپنی
قمیضیں اتاردیں۔ جیسے وہ اسردار کے ہی
انتظار میں تھے۔سردار بدستور بیگم کے ہونٹ
چوس رہا تھا۔ جب کہ مولو بیگم کی گانڈ میں دو
انگلیاں تیزی سے اندر باہر کر رہا تھا۔اسی
لمحے کاچھی بیگم کی چوت میں دو اور پھر تین
انگلیاں اندر باہر کر رہا تھا۔ یہ منظر جاری
تھا کہ چوتھے ڈاکو نے بیگم کی قمیض اوپر کی
اور برا کی ہُکس کھو ل دیں۔اور سردار نے
بیگم کی لان کی پتلی قمیض ایک ہی جھٹکے میں
کھینچ کر پھاڑ دی۔ اور پھر تمام قمیض کو
باری باری چیر کر پھاڑ ڈالا۔ اب میری بیگم
بالکل ننگی ہو چکی تھی۔ سردار نے اپنی شلوار
کا ناڑا کھول دیا۔ جس کے ساتھ ہی کالا سا لنڈ
نمودر ہوگیا۔
سردار نے بیگم کی گالوں کو دبا کر زبردستی
منہ کھول کر لنڈ کو بیگم کےمنہ میں ڈال دیا۔
اور بیگم کو بالوں سے پکڑ کر منہ اوپر نیچے
کرنے لگا۔ جب کہ مولو بیگم کی چوت کو زبان سے
چاٹنے لگا اور کاچھی گانڈ کو چاٹنے لگ گیا۔
سردار کے لنڈ کو بیگم کا منہ شاید بہت مزہ دے
رہا تھا جس سے سردار کے منہ سے آہ۔۔۔آہ۔۔۔آہ
۔۔۔کی آوازیں نکل رہی تھیں۔جب کہ چوٹھا
ڈاکو جو پٹھان لگ رہا تھا۔ وہ بیگم کے ایک
ہاتھ سے اپنے لند کو مساج کروا رہا تھا۔
بیگم ساتھ نہیں دے رہی تھی لیکن وہ خود ہی
بیگم کے ہاتھ کی مٹھ بنا کر اوپر نیچے کر رہا
تھا ۔ میری پیاری بیگم کے جسم سے چار غیر مرد
کھیل رہے تھے۔دو گانڈ اور چوت چاٹ رہے تھے
اور ایک لند چسوا رہا تھا اور ایک مٹھ کا کام
لے رہا تھا۔بیگم اب بالکل ڈھیلی ہو گئی تھی
اور خود کو ڈاکوئوں کے رحم و کرم پر چھوڑ نے
پر مجبور ہو چکی تھی۔ اگلے ہی لمحے سردار
بیگم کے سر کے بالوں کو پکڑ کر پاگلوں کی طرح
اوپر نیچے کرنے لگا اور ساتھ ہی وہ بیگم کے
منہ میں فارغ ہوگیا ۔ اور بیگم کا منہ اس کی
منی سے بھر گیا۔بیگم نے اس کی منی باہر
پھینک دی۔سردار گاڑی کی ڈگی سے دور نیچے
زمین پر آکر بیٹھ گیا۔اور اب لالا یعنی
پٹھان نے اپنا لند بیگم کے منہ میں ڈال دیا۔
اس دوران مولو نے بیگ سے ایک چادر نکالی اور
کہا اسے نیچے لٹا کر چودتے ہیں۔اس کے بعد وہ
بیگم کو میرے ساتھ والے درخت کے پاس اٹھا کر
لے آئے۔اور چادر بچھا کر بیگم کو سیدھا لٹا
دیا.

پھر وہ میری بیگم کو نہ جانے کیوں اس درخت کے
پاس لے آئے جہاں میں بندھا ہوا تھا۔شاید اس
لیے کہ اس کے نیچے تھوڑا بہت نرم گھا س تھا۔
وہاں لاکر انہوں نے بیگم کو سیدھا لٹا دیا۔
میری بیگم نے ٹانگیں سکیڑ رکھی تھیں۔ مولو
نے میری بیگم کی دونوں ٹانگیں مخالف سمت میں
پھیلا کر کھو ل دیں اور اپنا لمبا سا لنڈ جو
میرے لنڈ سے کافی لمبا اور موٹا تھا ایک
جھٹکے میں میری بیگم کی چوت میں پورا اندر
ڈال دیا اور پاگلوں کی طرح اندر باہر جھٹکے
مارنے لگ گیا۔میر ی بیگم بنیادی طور پر ایک
شریف عورت تھی اور کبھی کسی مرد سے زیادہ
بات تک نہیں کی تھی۔ لیکن آج اس کی چوت میں
کسی غیر مرد کا لنڈ تیزی سے اندر باہر ہو رہا
تھا۔ اور خوب مزے لوٹ رہا تھا شادی شدہ
پرائی چوت کے۔ اس دوران لالا پھر سے بیگم کے
ہاتھوں کی مٹھ بنا کر مز ے لینے لگ گیا۔ اور
کاچھی نے اپنا لنڈ جو کہ لمبا کم اور موٹا
زیادہ تھا بیگم کے منہ میں ڈال دیا ۔ جب کے
سردار یہ سب دیکھ کر بہت خوش ہو رہا تھا۔
میرے بیگم میرے سامنے چُد رہی تھی۔ مولو
اپنے لنڈ کو میر ی پیاری بیگم کی نازک چوت
میں ہتھوڑے کی ٹھوک رہا تھا۔ بیگم کی طرف سے
مزاحمت نام کی کوئی چیز نہ رہی تھی۔ بیگم کی
چوت کا سوراخ مولو کے لنڈ کو بھر پور مزے دے
رہا تھا۔ اور منہ سے کاچھی کا لنڈ لطف اندوز
ہو رہا تھا۔ جب کہ ہاتھ کے مزے لالا اٹھا نے
لگا تھا۔ لالا نے کہا: ماڑا، اس کو الٹا کرو
، ہم اس کی گانڈ میں پانی بھرے گا۔ یہ سن کر
کاچھی سیدھا لیٹ گیا او بیگم کو الٹا کر کے
اپنے اوپر لٹا لیا۔ مولو نے میر ی بیگم کی
ٹانگیں کھول دیں۔ اور کاچھی نے اپنا لنڈ
میری بیگم کی چوت میں پورا ڈال دیا۔ اس کے بس
میں ہوتا تو شاید ٹٹے بھی ڈال دیتا۔ جب کہ
مولو نے اپنا لنڈ بیگم کے منہ میں ڈال دیا
اور کہا کہ چوسو۔ بیگم نے نہیں چوسا۔ اس نے
پسٹل اٹھا کر کہا کہ چوسو ورنہ یہ پورا برسٹ
تمھارے شوہر کی کھوپڑی میں اتار دوں گا۔
لیکن بیگم نے پھر بھی نہ چوسا ۔ اس نے ایک
ہوائی فائر کیا۔ جس سے بیگم ڈر گئی۔ اور
مولو کا لنڈ چوسنے لگ گئی۔ جب کہ کاچھی بیگم
کی چوت میں لنڈ اندر باہر کرنے لگ گیا۔ اب
لالا کو بیگم کی گانڈ مارنے کا موقع مل گیا۔
اس نے بیگم کی گانڈ میں انگلی ڈال کر راستہ
بنانا شروع کر دیا۔پہلے ایک انگلی ڈالی،
پھر دو اور پھر تین انگلیاں ڈال کر اندر
باہر کرنے لگا۔ اس کے بعد اس نے اپنا گورا
مگر موٹا لنڈ بیگم کی گانڈ کے سوراخ پر رکھ
کر زور لگایا لیکن مشکل سے لنڈ کی ٹوپی ہی
اندر گئی۔ جیسے ہی لنڈ کی ٹوپی اندر گئی
بیگم نے چیخ ماری۔ لیکن لالا نے ایک زور دار
جھٹکے سے لنڈ کو زبردستی آدھا اندر گھسیڑ
دیا۔ اور اندر باہر کرنے لگا۔ اب منظر یہ
تھا کہ بیگم کے تینوں سوراخ یعنی چوت، گانڈ
اور منہ لنڈوں سے بھرے ہوئے تھے۔ اور اندر
باہر ہو رہے تھے۔ لالا نے بیگم کی گانڈ سے
لنڈ نکالا اور اچھی طرح تھوک لگا گر دوبارہ
ڈال دیا اور اس بار پورے کا پورا اندر چلا
گیا۔ بیگم کی چوت اور گانڈ میں لنڈ تیزی سے
اندر باہر ہورہے تھے۔ جب کہ منہ میں بھی ایک
لنڈ چوسائی کے مزے لوٹ رہا تھا۔ لالا کا لنڈ
بیگم کی گانڈ میں بہت زیادہ پھنس کر آیا
تھا۔ لیکن وہ میری بیگم کے درد کی بالکل
پرواہ نہیں کر رہا تھا۔ بیگم جتنا چلاتی وہ
اور زور سے جھٹکا مارتا۔ کچھ دیر بیگم کے
تینوں سواخوں کی چدائی جاری رہی۔ پھر وہ آپس
میں جگہیں تبدیل کرنے لگ گئے۔ کبھی مولو
گانڈ مارنے لگ جاتا اور کاچھی چوت۔ تو کبھی
مولو چوت مارنے لگ جاتا تو کاچھی گانڈ۔ لیکن
لالا مسلسل گانڈ ہی مارتا رہا۔ اگلے ہی لمحے
لالا پاگلوں کی طرح بیگم کو جھٹکے مارتا ہوا
گانڈ کے اندر ہی فارغ ہوگیا۔ اور سردار کے
ساتھ جاکر بیٹھ گیا۔ اس دوران مولو جو کہ
بیگم کے منہ کو چود رہا تھا وہ گانڈ مارنے کے
لیے بڑھا۔ بیگم کی گانڈ سے لالا کی منی باہر
نکل رہی تھی۔ مولو نے اسی منی کو اپنے لنڈ پر
لگایا اور اپنا لنڈ میری بیگم کی سوجی ہوئی
گانڈ میں ڈال دیا۔ ایک طرف کاچھی میری بیگم
کی چوت میں لنڈ تیزی سے اندر باہر کر رہا تھا
اور ساتھ ساتھ بیگم کے بڑے بڑے ممے بھی چوس
رہا تھا۔ جس سےبیگم کے منہ خود بخود
اسس۔۔۔اسس۔۔۔اف۔۔۔کی آوازیں نکلنے لگی
تھیں۔ شاید اب بیگم کو بھی بہت مزہ آنے لگ
گیا تھا۔ بیگم دو لنڈوں کے پہلے ہی ٹھنڈا کر
چکی تھی اور باقی دو لنڈ ابھی تک بیگم کی چوت
اور گانڈ میں ایک ساتھ ہلچل مچائے ہوئے تھے۔
مولو کالنڈ جب خشک ہو جاتا تو وہ گانڈ سے
نکال کر بیگم کے منہ سے چسوانے لگ جاتا ۔ اور
پھر سے گانڈ میں ڈال دیتا۔ یہ سلسلہ جاری
تھا کہ پہلے مولو بیگم کی گانڈ میں فارغ
ہوگیا اور اگلے ہی لمحے کاچھی بیگم کی چوت
کو گرم پانی سے بھر دیا۔بیگم نے ابھی سکھ کا
سانس لیا ہی تھا کہ سردار جو کہ سب سے پہلے
کار کی بند ڈگی پر بیگم کے منہ میں ہی فارغ
ہو چکا تھا وہ بیگم کے قریب آیا اور بیگم کے
بوبس چوسنے شروع کر دیے۔ بوبس چوستا ہوا چوت
تک آجاتا اور پھر بوبس اور گردن تک چلا
جاتا۔پھر جب وہ ایک بار نیچے آیا تو پاگلوں
کی طرح بیگم کے دونوں چوتڑ پھیلا دیے چوت کو
کے لبوں کو اپنے منہ میں لے کر اندر کی طرف
کھینچتا ہوا چوسنے لگ گیا۔ جس سے بیگم بھی
بہت گرم ہونے لگی تھی۔ بیگم بھی سیکس میں
چور لگ رہی تھی۔ اور مزے میں اپنی گانڈ کے
دونوں چوتڑ اوپر نیچے اور دائیں بائیں کر
رہی تھی۔ اور یہ سب وہ مدہوشی کی حالت میں کر
رہی تھی۔ اور ساتھ ساتھ سسکیاں بھی بھر رہی
تھی۔یہ منظر دیکھ کر نہ جانے کیوں خود بخود
ہی میرا لنڈ بھی کھڑا ہونے لگ گیا، جو کہ
میری شلوار سے ظاہر ہو رہا تھا ۔میرا لنڈ
اتنا زیادہ اکڑ گیا کہ میرا غصہ بھی ماند پڑ
گیا۔ اور مجھے اپنی ہی بیگم کا سین کسی
سیکسی مووی کا مزہ دینے لگ گیا۔ میں نے کبھی
سوچا بھی نہیں تھا کہ اپنی ہی بیگم کو چدتا
دیکھ کر مجھے اس طرح سیکس آ سکتا ہے۔بیگم کی
چوت اچھی طرح چاٹنے کے بعد اس نے اپنا لنڈ
چوت کے سوراخ میں گھسیڑ دیا۔اور اندر باہر
کرنے لگا۔جب اچانک سردار کی نظر میری شلوار
کے ابھرے ہوئے حصے پر پڑی تو سردار نے کہا :
اس کا ایک ہاتھ کھول دو ، اور منہ سے ٹیپ ہٹا
دو۔ اب تو بیگم بھی سرادر کا خوب ساتھ دے رہی
تھی۔ اور آگے پیچھے جھٹکے مار مار کر سردار
کے لنڈ کی اندر باہر کی رفتار بڑھانے میں
سردار کی مدد کر رہی تھی۔ یہاں تک کہ ایک بار
بیگم نے سردار کو اس کی کمر سے اپنی بانہوں
میں بھر لیا۔ اور زور زور سے سیکسی سسکیاں
بھرنے لگی۔ یہ بیگم کے فارغ ہونے کی علامت
لگ رہی تھی۔ پھر بیگم اور سردار ایک ساتھ
فارغ ہوگئےاور ساتھ ہی میری شلوار بھی مٹھ
مارنے کی وجہ سے منی سے بھر گئی۔

No comments:

Post a Comment

Facebook Comment

Blogger Tips and TricksLatest Tips And TricksBlogger Tricks